سکھر میں پہلی بار NICVD اسپتال میں فالج (آدھے جسم کے فالج) کا مفت علاج شروع
سکھر اور اس کے گرد و نواح کے عوام کے لیے ایک انتہائی خوش آئند اور زندگی بچانے والی خبر سامنے آئی ہے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز (NICVD) سکھر میں پہلی مرتبہ فالج (Stroke / آدھے جسم کا فالج) کا جدید اور مکمل طور پر مفت علاج شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ سہولت ان ہزاروں افراد کے لیے امید کی کرن ہے جو بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے زندگی بھر کی معذوری کا شکار ہو جاتے تھے۔
فالج کیا ہے؟ (What is Stroke)
فالج ایک خطرناک اور ہنگامی بیماری ہے جو اس وقت ہوتی ہے جب دماغ کو جانے والی خون کی سپلائی اچانک رک جائے یا کم ہو جائے۔ اس کے نتیجے میں دماغ کے خلیات کو آکسیجن اور غذائیت نہیں ملتی اور وہ چند منٹوں میں متاثر یا مردہ ہو سکتے ہیں۔ فالج کی وجہ سے مریض کے جسم کا آدھا حصہ مفلوج ہو سکتا ہے، بولنے، دیکھنے، چلنے پھرنے اور سوچنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں فالج کا بڑھتا ہوا مسئلہ
پاکستان میں فالج تیزی سے بڑھتی ہوئی بیماریوں میں شامل ہے۔ بلڈ پریشر، شوگر، موٹاپا، تمباکو نوشی، ذہنی دباؤ اور غیر صحت مند طرزِ زندگی فالج کے بڑے اسباب ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں فالج کو اکثر تقدیر یا لا علاج بیماری سمجھ لیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے مریض کو بروقت اسپتال نہیں پہنچایا جاتا۔
NICVD سکھر کی تاریخی پیش رفت
NICVD سکھر نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے جدید طبی سہولیات کے ساتھ فالج کے فوری علاج کا آغاز کیا ہے۔ یہ سہولت خاص طور پر ان مریضوں کے لیے ہے جو فالج کا شکار ہونے کے فوراً بعد اسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ یہ علاج مکمل طور پر مفت فراہم کیا جا رہا ہے، جو غریب اور متوسط طبقے کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔
6 گھنٹے انتہائی اہم کیوں ہیں؟
طبی ماہرین کے مطابق فالج کے بعد ابتدائی 6 گھنٹے “گولڈن آور” کہلاتے ہیں۔ اگر مریض کو فالج ہونے کے 6 گھنٹوں کے اندر NICVD اسپتال پہنچا دیا جائے تو ایک خاص انجیکشن (Thrombolytic Injection) کے ذریعے دماغ میں جمی ہوئی رکاوٹ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
یہ انجیکشن دماغ میں خون کی روانی بحال کر دیتا ہے اور مریض کو مستقل معذوری سے بچایا جا سکتا ہے۔ اگر تاخیر ہو جائے تو دماغ کے خلیات مستقل طور پر خراب ہو سکتے ہیں، جس کے بعد مکمل صحت یابی ممکن نہیں رہتی۔
انجیکشن کے ذریعے علاج کیسے ہوتا ہے؟
فالج کی ایک عام قسم “اسکیمک اسٹروک” ہے، جس میں دماغ کی کسی شریان میں خون جم جاتا ہے۔ NICVD سکھر میں جدید تشخیصی سہولیات کے ذریعے فوری CT Scan اور دیگر ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔
اگر مریض اس علاج کے لیے موزوں ہو تو اسے خصوصی انجیکشن دیا جاتا ہے جو خون کے لوتھڑے کو تحلیل کر دیتا ہے۔ یہ علاج صرف ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں کیا جاتا ہے اور مریض کی جان بچانے کے ساتھ ساتھ معذوری سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔
کن علامات پر فوراً اسپتال لے جائیں؟
فالج کی علامات کو پہچاننا انتہائی ضروری ہے۔ اگر درج ذیل میں سے کوئی بھی علامت ظاہر ہو تو فوراً مریض کو NICVD سکھر یا قریبی بڑے اسپتال لے جائیں:
- چہرے کا ایک طرف ٹیڑھا ہو جانا
- بازو یا ٹانگ میں اچانک کمزوری یا سن ہونا
- بولنے میں دقت یا الفاظ کا واضح نہ ہونا
- آنکھوں سے اچانک دھندلا دکھائی دینا
- شدید سر درد بغیر کسی وجہ کے
وقت ضائع کرنا زندگی بھر کا نقصان بن سکتا ہے
ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ پہلے گھریلو ٹوٹکوں، حکیم یا انتظار کا سہارا لیتے ہیں، جو قیمتی وقت ضائع کر دیتا ہے۔ یاد رکھیں فالج کا ہر گزرتا منٹ دماغ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ 6 گھنٹوں کے اندر اسپتال پہنچنا زندگی اور معذوری کے درمیان فرق ہو سکتا ہے۔
NICVD: غریبوں کے لیے امید کی کرن
NICVD پہلے ہی دل کے مریضوں کے مفت علاج کے حوالے سے مشہور ہے۔ اب فالج کے مفت علاج کا آغاز ایک اور انقلابی قدم ہے۔ یہ سہولت اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت ہو تو سرکاری ادارے بھی عالمی معیار کی طبی سہولیات فراہم کر سکتے ہیں۔
عوام سے خصوصی اپیل
تمام شہریوں، سوشل میڈیا صارفین، صحافیوں اور سماجی کارکنوں سے گزارش ہے کہ اس اہم معلومات کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ ایک شیئر کسی انسان کو عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتا ہے۔ یہ صرف ایک خبر نہیں بلکہ انسانی جانوں کو بچانے کا پیغام ہے۔
نتیجہ
سکھر میں NICVD اسپتال میں فالج کے مفت علاج کا آغاز سندھ اور پورے پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ اگر ہم سب فالج کی علامات کو پہچان لیں اور مریض کو بروقت اسپتال پہنچائیں تو ہزاروں لوگ معذوری سے بچ سکتے ہیں اور ایک صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔
براہِ کرم اس معلومات کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں کیونکہ وقت پر دیا گیا ایک پیغام، ایک زندگی بچا سکتا ہے۔
#NICVD #StrokeAwareness #فالج #سکھر #مفت_علاج






Leave a Reply